یانبی چشمِ کرم فرمائیے

یا نبی چشمِ کرم فرمائیے

اپنے قدموں میں مجھے بلوائیے

 

حسرتِ دیدار میں بے چین ہوں

اک جھلک یا سیّدی دکھلائیے

 

چار سو غم کی گھٹائیں چھائی ہیں

رحمتوں والی ہوا چلوائیے

 

بحر کی موجوں کی زَد میں ناؤ ہے

آئیے میری مدد فرمائیے

 

شافعء روزِ جزا آ جائیے

مژدہ بخشش کا مجھے سنوائیے

 

نعت کی محفل میں آقا جی حضور

مجھ رضاؔ کے گھر میں بھی اب آئیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں
یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظردیکھ لوں دور ہی سے
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
ہوش و خرد سے کام لیا ہے
دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں
سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا