یا الٰہی میرے دل میں صرف تو ہی تو رہے

یا الٰہی میرے دل میں صرف تو ہی تو رہے

میرے شعروں میں ہمیشہ حمد کی خوشبو رہے

 

وہ خشیت ہو میسر جس سے جنت ہو نصیب

دل میں تیری یاد ہو اور آنکھ میں آنسو رہے

 

نور سے تیرے ہی دل معمور ہو رب کریم

دور اِس دل سے جمالِ غیر کا جادو رہے

 

حرص و آز اس دل سے یکسر دور کر مولا کریم

نفس پر اپنے ہمیشہ ہی مرا قابو رہے

 

لفظ جو لکھوں صداقت کی چمک اس کو ملے

میری ہر اک بات میں بس خیر کا پہلو رہے

 

عرصۂ ہستی میں شر سے ہر طرح بچتا رہوں

خیر کے اعمال سرزد ہوں کچھ ایسی خو رہے

 

ہو سخن گوئی پہ مائل جب طبیعت، میرے رب!

ہمدمی رُوحُ الْقُدُس کی قوتِ بازو رہے

 

دشتِ وحدت میں تحیر ہی تحیر ہے عزیزؔ

پھر بھی دل چاہے کہ بس اس دشت کا آہو رہے!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری جبیں ہے فقط تیرے آستاں کے لیے
خوشا کہ پھر حرمِ پاک تک رسائی ہے
ہر طرف پھیلی جمالِ مصطفی ﷺ کی روشنی
لکھوں جو نعتِ پیمبر ﷺ تو کس طرح لکھوں
التماس بحضور رسالت مآب ﷺ
آپ ﷺ کے دَر کو دیکھ کر یہ مجھے آگہی ہوئی
خیالِ طیبہ جو اقلمِ حرف میں آئے
نکل رہی ہے آہ پھریہ قلبِ بے قرار سے
جب مرے آقا ﷺ نے سیدھا راستہ بتلا دیا
میرے مالک یہ تجھ سے دعا ہے