یا الٰہی! ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو

جب پڑے مشکل شہِ مشکل کشا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! بھول جاؤں نزع کی تکلیف کو

شادیِ دیدارِ حُسنِ مصطفیٰ کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! گورِ تیرہ کی جب آئے سخت رات

اُن کے پیارے منھ کی صبحِ جاں فزا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! جب پڑے محشر میں شورِ دار و گیر

امن دینے والے پیارے پیشوا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! جب زبانیں باہر آئیں پیاس سے

صاحبِ کوثر شہِ جود و عطا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! سرد مہری پر ہو جب خورشیدِ حشر

سیّدِ بے سایہ کے ظِلِّ لِوا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! گرمیِ محشر سے جب بھڑکیں بدن

دامنِ محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! نامۂ اعمال جب کھلنے لگیں

عیب پوشِ خلق، ستّارِ خطا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! جب بہیں آنکھیں حسابِ جرم میں

اُن تبسّم ریز ہونٹوں کی دُعا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! جب حسابِ خندۂ بے جا رُلائے

چشمِ گریانِ شفیعِ مُرتجٰی کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! رنگ لائیں جب مِری بے باکیاں

اُن کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! جب چلوں تاریک راہِ پل صراط

آفتابِ ہاشمی نور الہُدیٰ کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! جب سرِ شمشیر پر چلنا پڑے

رَبِّ سَلِّمْ کہنے والے غم زُدا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! جو دعائے نیک میں تجھ سے کروں

قدسیوں کے لب سے آمیں رَبَّنَا کا ساتھ ہو

 

یاالٰہی! جب رؔضا خوابِ گراں سے سر اٹھائے

دولتِ بیدار عشقِ مصطفیٰ کا ساتھ ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھے چاہیے مرے مصطفیٰ ترا پیار، پیار کے شہر کا
معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
مدحتِ مصطفیٰ گنگنانے کے بعد
یہ جُود و کرم آپؐ کا ہے، فیض و عطا ہے
ہم درِ مصطفیؐ پہ جائیں گے
مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے
فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقاؐ
آتی ہے رات دن اک آواز یہ حرم سے
اک نور سے مطلعِ انوار مدینہ