اردوئے معلیٰ

Search

یا حبیب خدا احمد مجتبیٰ دل مبتلا کا سلام لو

جو وفا کی راہ میں کھو گیا اسی گمشدہ کا سلام لو

 

میں طلب سے باز نہ آؤں گا تو کرم کا ہاتھ بڑھائے جا

جو تیرے کرم سے ہیں آشنا اسی آشنا کا سلام لو

 

میری حاضری ہو مدینے میں ملے لطف مجھ کو جینے میں

تیرا نور ہو میرے سینے میں میری اس دعا کا سلام لو

 

وہ حُسین جس نے چھڑک کے خون چمنِ وفا کو ہرا کیا

اس جانثار کا واسطہ کہ ہر اک گدا کا سلام لو

 

کوئی مر رہا ہے بہشت پر کوئی چاہتا ہے نجات کو

میں تجھی کو چاہوں خدا کرے میری اس دعا کا سلام لو

 

ہیں تمام اولیا کے بلند سر ہیں قدم پہ جن کے جھکے ہوئے

اسی پیارے غوث کا واسطہ ہم بے کسوں کا سلام لو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ