یا رب ترے محبوب کا جلوا نظر آئے

یا رب ترے محبوب کا جلوا نظر آئے

اس نورِ مجسم کا سراپا نظر آئے

 

اے کاش کبھی ایسا بھی ہو خواب میں میرے

ہوں جس کی غلامی میں وہ آقا نظر آئے

 

روشن رہیں آنکھیں یہ مری بعدِ فنا بھی

گر وقتِ نزع وہ شہِ والا نظر آئے

 

تا حشر مری قبر میں ہو جائے اجالا

مرقد میں جو ان کا رُخ زیبا نظر آئے

 

جس در کا بنایا ہے گدا مجھ کو الہیٰ

اس در پہ کبھی کاش یہ منگتا نظر آئے

 

کس درجہ بنایا انہیں اللہ نے محبوب

ہر ایک کے دل کی وہ تمنا نظر آئے

 

آوؔ کہ شمع نعتوں کی ہر سمت جلائیں

ہر گوشئہ ہستی میں اجالا نظر آئے

 

کس آنکھ نے دیکھی ہے مثال ان کی جہاں میں

سرکار تو کونین میں یکتا نظر آئے

 

کعبہ اے ریاض اس کو بنالوں گا میں دل کا

گر نقشِ قدم مجھ کو نبی کا نظر آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی
سجا ہے لالہ زار آج نعت کا
اِک بار اُٹھے تھے جو قدم نورِ ہدیٰ کے
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
ملی ہے محبت حضورؐ آپؐ کی
جس نے سمجھا عشق محبوب خدا کیا چیز ہے
درِ مصطفیٰؐ کا گدا ہوں میں، درِ مصطفیٰؐ پہ صدا کروں
لبوں پہ جس کے محمد کا نام رہتا ہے
مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ
مصروفِ حمدِ باری و مدحِ حضورؐ تھا​