اردوئے معلیٰ

یا رب خلوصِ شوق کو اتنی رسائی دے

دل کے حرم میں شہرِ مدینہ دکھائی دے

 

تنگ آ گئی ہے قیدِ عناصر سے زندگی

زنجیر صبح و شام سے مجھ کو رہائی دے

 

ہر بات میں ہوں نامِ محمد کی تابش

ہر سانس میں پیامِ محمد سنائی دے

 

مولائے کائنات کی چشمِ کرم تو ہے

جو بیکسوں کو طاقتِ خیبر کشائی دے

 

صرف ایک لمحہ روضۂ اقدس کو چوم لوں

صرف ایک لمحہ کی مرے موَلا خدائی دے

 

ہو دل کی سلطنت میں نہ سرکش کوئی اُمنگ

درویش کو بھی ہمت فرما نروائی دے

 

یا مجھ کو مرحمت ہو محبت حضور کی

یا میرے دل کو طاقتِ صبر آز مائی دے

 

اس کربلا میں صدقہ شبیرؓ کے طفیل

میرے دلِ حزیں کو بھی کرب آشنائی دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات