اردوئے معلیٰ

یا محمد نوُرِ مجسّم یا حبیبی یا مولائی

تصویرِ کمالِ محبت تنویرِ جمالِ خدائی

 

تیرا وصف بیاں ہو کس سے تیری کون کرے گا بڑائی

اس گردِ سفر میں گم ہے جبریلِ امیں کی رسائی

 

تیری ایک نظر کے طالب تیرے ایک سخن پر قرباں

یہ سب تیرے دیوانے یہ سب تیرے شیدائی

 

یہ رنگِ بہارِ گلشن یہ ُگل اور ُگل کا جوبن

تیرے نورِ قدم کا دھوون اس دھوون کی رعنائی

 

ما اجملک تیری صورت ما احسنک تیری سیرت

ما اکملک تیری عظمت تیری ذات میں گم ہے خدائی

 

اے مظہر شانِ جمالی اے خواجہ بندۂ عالی

مجھے حشر میں کام آجائے میرا ذوقِ سخن آرائی

 

تو رئیس روزِ شفاعت تو امیرِ لطف و عنایت

ہے ادیبؔ کو تجھ سے نسبت یہ غلام ہے تو آقائی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات