یا نبی آپ کو پُکارا ہے

یا نبی آپ کو پُکارا ہے

اور کوئی نہیں سہارا ہے

 

شب گزاری نبی کی یادوں میں

نعت لکھنے میں دِن گزارا ہے

 

خاکِ پائے نبی کی دولت سے

میں نے دِل کا نگر سنوارا ہے

 

آپ کے فیض سے درخشندہ

جاں ہماری ہے، دِل ہمارا ہے

 

جو مُنوّر کرے دِل و جاں کو

آپ کے نور کا وہ دھارا ہے

 

آپ کا پیار جس نے جیت لیا

زندگی بھر نہیں وہ ہارا ہے

 

آپ کے عاشقوں کی محفل میں

ذِکرِ ہوتا ظفرؔ! تمھارا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ