اردوئے معلیٰ

یا نبی صلِ علیٰ وردِ زباں ہو جائے

 

یا نبی صلِ علیٰ وردِ زباں ہو جائے

وقفِ مدحت مرا اندازِ بیاں ہو جائے

 

حشر کے روز کڑی دھوپ میں میرے آقا

آپ کا قرب مری جائے اماں ہو جائے

 

تھام لوں آپ کی چوکھٹ کو بصد عجز و نیاز

آنکھ میں اشک ہوں دل گریہ کناں ہو جائے

 

جسم و جاں ایسے فدا ہوں ترے سنگِ در پر

جسم ہو خاک مری روح دُھواں ہو جائے

 

آپ سے بڑھ کے حسیں کوئی نہیں عالم میں

کیوں نہ شیدا و فدا سارا جہاں ہو جائے

 

روز افزوں ہو میری آنکھ سے بہتا پانی

دل سے ُاٹھتا ہوا غم کوہِ گراں ہو جائے

 

منتظر دید کا مدت سے ہے اشفاقؔ احمد

اِک جھلک آج تو اے جانِ جہاں ہو جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ