یا نبی آپ کی چوکھٹ پہ بھکاری آئے

یا نبی آپ کی چوکھٹ پہ بھکاری آئے

مانگنے رزقِ ثنا نعت لکھاری آئے

 

رُت گُلابوں کی رگِ جاں کو معطر کر دے

کُوئے خُوشبُو سے اگر بادِ بہاری آئے

 

کاسۂ چشم لیے بیٹھا ہے اک مدت سے

جانے کب تشنۂ دیدار کی باری آئے

 

لکھنے والے ہمیں سرکار کے شیدا لکھیں

گفتگو جب سرِ قرطاس ہماری آئے

 

دھڑکنیں دف کے قرینے سے کریں استقبال

جس گھڑی سرورِ عالم کی سواری آئے

 

دکھ رقم ہو مری آنکھوں میں تری فرقت کا

شیشۂ دل پہ ترے ہجر کی دھاری آئے

 

کاش مل جائے حُضوری کی اجازت پھر سے

دینے اشفاق ترے در پہ بُہاری آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے
سرورِ ارض و سما آئے کہو صلِّ علیٰ
اگر اے نسیمِ سحر ترا! ہو گزر دیار ِحجاز میں
لوحِ الفت پر بہ حرفِ معتبر لکھتا رہوں
زہے نصیٖب سفر ہو مرا بھی سوئے نبیؐ
در سرکار پہ جانے میں مزہ آتا ہے
شافعِ روزِ جزا، والیٔ جنت ُتو ہے
شاخِ نخلِ یقیں درود شریف
ہم سزاوار ایسے کب ہوئے ہیں
جو دل سے مدحت خیرالانام کرتے ہیں

اشتہارات