اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

یمین و یسار

دنیا کی حقیقت جوں جوں آشکار ہوتی جاتی توں توں دنیا کی وقعت انسان کی نظروں میں کم ہوتی جاتی ہے
کبھی کبھی بیٹھے بٹھائے چلتے پھرتے اچانک اداسی آپکو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے عجیب ڈپریشن طاری ہو جاتا ہے .. ہم زندگی میں کسی مقصد کسی خوہش کے حصول کے لیے جیتے ہیں اور اس میں اپنی توانائیاں صرف کر دیتے ہیں
آپکے پاس ایک بہترین گھر ہے …. پھراب؟ ؟؟
اعلی گاڑی ہے … چلیے ہوگیا
بہترین جیون ساتھی اور نیک اولاد ہے .. اب آگے
بچے کامیاب ہو جائیں گے … پھر؟ ؟
آپ بے حد ذہین ہیں اعلی سوچ اعلی دماغ رکھتے ہیں … تو کیا معرکہ سر انجام کر لیا ہے؟ ؟؟
مجھے دنیا کی بے ثباتی سے الجھن ہوتی ہے میں اپنی روزمرہ زندگی میں گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ چلتی ہوں … بہت سے گن اور بہت سی صلاحیتیں اللہ نے دی ہیں لیکن ایک سوال جو ہر وقت پریشان کیے رہتا ہے … سب ہے لیکن رب سے تعلق کا عالم وہ نہیں جو ہونا چاہیے … میں نے دنیا میں رہ کر دین کے لیے اپنے بہترین دماغ سے کیا کام کر لیا ہے … ؟؟ بلکہ میرے پاس تو شاید اپنی ذات کے لیے کیے گئے کاموں سے ہٹ کر کسی کام کے لیے کوئی وقت ہی نہیں ہے
ایسے ہی سوالات سے پیچھا چھڑانے کے لیے کاغذ قلم کا سہارا لے کر ایک اور دنیا تخلیق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یا شاید پھر اس دنیا کو یاد کرنے کی کوشش جہاں نفسا نفسی کا عالم نہ تھا … چیزوں سے زیادہ انسان اہم تھے
اپنے اطراف میں نظر دوڑائیے تو لوگ زیادہ عالم ہو چکے ہیں آپ کسی سے بات کرنے کے لیے منہ کھولیے اپنے علم کی طاقت سے آپکو ایسا پچھاڑیں گے کہ کئی روز تک آپ بیٹھے اپنے ہی زخموں کو چاٹتے رہیں گے … برداشت تحمل دوسروں کی رائے کی قدر کرنا خواب ہوئے … اپنوں کے پاس آپکے مسائل سننے کا وقت نہیں رہا اور جس کے پاس وقت ہوتا ہے وہ خود ہمہ وقت اپنی قابلیت انڈیلنے کے لیے شکار کی تلاش میں رہتا ہے
کل ان تمام فکروں میں غلطاں راستے میں چلتے ہوئے چند باتوں نے ذہن کو جکڑ لیا
دل و دماغ میں جنگ چھڑ گئی عجیب عالم رہا لیکن نتیجہ برآمد نہ ہوا
دل .. آپ جو ہر روز کاغذ قلم پکڑ کر بیٹھ جاتی ہیں اسکا مقصد کیا ہے؟
دماغ … میں اس دنیا میں رہنے والا ایک باشندہ ہوں اور میری ایک رائے ہے جسے میں اپنے ہی جیسے دوسروں انسانوں سے شئیر کرنا چاہتی ہوں
دل … آپکی رائے کن افکار پہ مشتمل ہے؟ اس سے لوگ کیا سبق سیکھیں گے؟ ؟
دماغ .. رائے شئیر کرنے کا مقصد ضروری تو نہیں کہ لوگ اس سے سبق سیکھیں .. ہو سکتا ہے زندگی کو جس نقطہ نگاہ سے میں دیکھتی ہوں کوئی اور اس سے اپنی راہ کا تعین کر لے
دل .. کیا آپ واقعی اپنی اس رائے کو درست سمجھتی ہیں
دماغ .. ( کمزور آواز سے) جی
دل .. کیا آپ نہیں سمجھتیں کہ آپکی لکھی گئی بچگانہ کہانیوں سے کسی کو کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں انکا کوئی مقصد نہیں
دماغ .. کیا ہر کام کے لیے مقصد کا ہونا ضروری ہے؟ کچھ باتیں ہم اپنی ذات کو خوش کرنے کے لیے بھی کر سکتے ہیں کیا اس کی ممانعت ہے؟
دل … کیا آپ ہمہ وقت خود کو ہی بہلانے اور خوش کرنے کی جدو جہد میں وقت نہیں گنوا رہیں
دماغ …( جو مختلف قسم کی شعاعوں کے اثرات سے ویسے ہی تھکا رہتا ہے چراغ پا ہو کے) تو اس وقت کو بچا کے ہم نے کونسا راکٹ ایجاد کر لینا ہے .. اور پھر غلط ہی کیا کیا ہے ہم نے؟ کیا کسی کو تکلیف پہنچا رہے ہیں؟ کیا گناہ کر رہے ہیں؟ ؟
دل.. دنیا کیوں کھیل تماشے کی جا ہے؟ کہ لہو و لعب میں پڑ جاؤ؟
دماغ .. تو دنیا تو عبرت کی جا ہے بی بی ایک دوسرے کی سن سنا کے لے رہے ہیں نا عبرت
دل .. تم بھی اپنی امت کی طرح تاویل گھڑنے کی ماہر ہو لیکن دنیا خیالات و افکار بتانے کی نہیں ان پہ عمل کرنے کی جا ہے .. اور عمل کا دائرہ کار قول کے مقابلے کتنا ہے؟ ؟
دماغ .. فلسطین جا کے جہاد ہم تو لڑنے سے رہے .. اور کیا جہاد کا حکم خواتین کے لیے ہے سیانی؟
دل… ہاں خود تو نہیں جا سکتی ..بیٹے کو بھیج دو
دماغ .. ارے تین سال کا بچہ کیا جہاد لڑے گا؟
دل .. تین سال کے بچے کی تربیت کرو ااسکو بنانے کا کام کرو نا .. جہاں آپ افکار و اقوال کی دنیا میں گم رہتی ہیں وہاں بچہ بھی بے عمل ہوا جا رہا ہے
دماغ ..اچھا چلو کر لیں گے ابھی تو بچہ ہے
دل .. یہ جو فیس بک کی نئی لو لگا رکھی ہے یہ مرض کاہے کو لگا؟
دماغ .. جدید دنیا کے تقاضے ہیں سبھی وہاں پائے جاتے ہیں گھر تو کوئی ملتا نہیں مجبوری ہے
دل .. تو ہر ایک سے لڑتی کیوں پھرتی ہو
دماغ .. سچ بتاؤں ..عجیب دنیا ہے دل تنگ ہوا جاتا ہے ہاہاہا کار مچی رہتی ہے کوئی صبر سے تحمل سے نہ کسی کی سنتا ہے نہ سناتا ہے نہ رائے کا احترام نہ بڑے چھوٹے کا ادب نہ لحاظ نہ مروت ایسا لگتا ہے فیس بک کا کوئی خدا ہی نہیں .. کہ ماں باوا کا ڈر تو وہاں ویسے ہی نہیں چلو خدا کے ڈر سے ہی اعمال درست رکھتے
مرد عورت کو برا کہتے ہیں عورت مردوں کو .. عام آدمی لیڈر کو کوستا ہے لیڈر عم آدمی کو .. سیاست کی تو عجب کھچڑی ہے .. سیاست دان یا تو شیطان ہے یا فرشتہ .. آپ اگر اس سے اختلاف رکھتے ہیں تو وہ شیطان اگر اتفاق تو وہ فرشتہ … اچھے کام کو نہیں سراہنا برے پہ لتے ہی لیتے رہنا ہے … رائے بتانے کا بھی کوئی طریقہ کوئی حد ہونی چاہیے
دل .. جانتی ہو نا اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں؟
دماغ .. و نکتُبُ ما قدموا و اٰثارھم
دل .. تو سب کچھ لکھا جا رہا ہے .. یہ جو دو بازو ہیں نا سیدھے ہاتھ پہ ایک فرشتہ جسکے پاس ایک رجسٹر ہے وہ تمھارے سب اچھے کام لکھتا ہے. اور بائیں ہاتھ پہ فرشتہ سب برے کام لکھتا ہے .. ہر ہر بات .. اس کرسی پہ بیٹھ کر اس وقت تم نے کیا کیا کیا کہا
دماغ .. سارا دن لکھتے رہتے ہیں؟
دل .. ہاں
دماغ .. یہ رجسٹر تو بھر جائے گا
دل. جس میں زیادہ لکھا جائے گا وہ بھر جائے گا .. جتنے صفحات لگیں گے اتنی ضخامت ہوگی
دماغ .. کونسا والا ضخیم ہوگا؟
دل .. یہ تو تمھارا کام ہے .. اب دیکھ لو کس عمل کو کون لکھتا ہے اور کب تک لکھتا جاتا ہے
دماغ .. میں سارا دن باتیں کرتی رہوں تو کون لکھے گا
دل .. لا یعنی باتوں کو تو بائیں ہاتھ والا اور با معنی اور با مقصد کو دائیں ہاتھ والا
دماغ …. خاموشی

تب سے میں اس فکر میں ہوں کہ اس دنیا میں رہنا کتنا مشکل ہے ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے ایک ایک لفظ سوچ کے کہنا لکھنا ہے .. ورنہ جو رجسٹر ضخیم ہوا اسی ہاتھ میں تھمایا جائے گا .. اور اسی سمت بھیج دیا جائے گا
دائیں سمت یا بائیں سمت۔۔۔۔۔۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

داستانِ پُراسرار: گوروں کے دیس کے مُشاعرے
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
بیٹی کے نام خط (۱ )
مُشتاق احمد یوسفی سے مُلاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر
جب ہم ملے
پیاری اماں کے لیے خط (۱)
 کہانی بحرین کی
عدم توازن
بیٹی کے نام خط ( ۳ )
منٹو اور اکیسویں صدی کا افسانہ نگار