اردوئے معلیٰ

یم بہ یم صبح و مسا ستر ہزار

یم بہ یم صبح و مسا ستر ہزار

قدسیانِ عرش ہیں گِردِ مزار

 

یاوری پر ہے مقدر آج پھر

آپ کے در پر کھڑا ہوں اشک بار

 

امن گاہِ خیر ہے بر عاصیاں

یہ درِ خیر الورٰی ہے غم گسار

 

محتسب کے ہاتھ ہے فردِ عمل

کر نگاہِ عفو میرے کردگار

 

مژدۂ فَلْیَفْرَحُوْا لائے بشیر

تھی فضاے دہر ورنہ سوگوار

 

نور آیا ہے ربیع النور میں

ساتھ لایا ہے بہاروں کی بہار

 

زُلف و رُخ سے فیض پاتے ہیں سبھی

آبشار و کوہسار و مرغزار

 

جانِ ایماں بالیقیں ہیں پنج تن

شانِ ایماں آپ کے اصحاب چار

 

برسرِ میزاں پڑھوں نعتِ نبی

جب پکاریں آپ کے خدمت گزار

 

کاسۂ بخشش ہو منظر ہاتھ میں

صرفِ کارِ نعت ہوں لیل و نہار

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ