اردوئے معلیٰ

یوم ِدفاع

ہماری سرزمینِ پاک میں دشمن در آئے تھے

اسی شب ہم نے عزمِ خاص کے سورج جگائے تھے

 

قیامت ساز ہنگامے وہ اپنے ساتھ لائے تھے

مگر ہم نے مقابل میں نئے محشر اٹھائے تھے

 

جوان و پیر و کمسن سب بھرے گھر سے نکل آئے

کماں تھی باپ کے ہاتھوں میں بچے تیر لائے تھے

 

ہمارے پاس تکبیر و رسالت کی صدائیں تھیں

خودی و بے خودی اقبال جس کے ساتھ آئے تھے

 

سپاہِ پاک کی تیغوں کی چاندی اس طرح بکھری

سماعت پر دل اغیار پر سکے جمائے تھے

 

ضیاؔ ہم سرزمین ِ پاک کا جب نام لیتے ہیں

صنم خانے برہمن کا کلیجہ تھام لیتے ہیں​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ