یوں اپنے واسطے بخشش کا التزام کیا

 

یوں اپنے واسطے بخشش کا التزام کیا

کریم ذکر ترا میں نے صبح و شام کیا

 

خدائے پاک نے جا ؤک کہہ کے بندوں کو

حضور آپ کی مدحت کا اہتمام کیا

 

کرم کے سارے دریچے ہوئے ہیں وا مجھ پر

سخن کا محور و مرکز جب ان کا نام کیا

 

نبی کے نام سے میں نے کیا سخن کو شروع

اور اپنے خامۂ خستہ کو میں نے تام کیا

 

زمیں سے تا بہ فلک ایک پل میں کیسے گئے

ہے عقل دنگ بہت خوب ہی خرام کیا

 

اسی لیے تو ہنر پر ہے ناز منظرؔ کو

کہ اسمِ پاک ترا حاصلِ کلام کیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ