اردوئے معلیٰ

یوں بھی تری خوشی کو تماشہ کیا گیا

یوں بھی تری خوشی کو تماشہ کیا گیا

بعد از شکستِ خوابِ محبت جیا گیا

 

بیٹھے رفو گرانِ جنوں ہار کر کہاں

لب سی لیے ہیں زخم نہیں جب سیا گیا

 

بہلا ہوا ہے آج دلِ خآم کار یوں

جیسے جو گمشدہ ہے اسے پا لیا گیا

 

کم بخت ظرف روٹھ بھی سکتا نہیں کہ اب

ہم کو بڑے خلوص سے دھوکہ دیا گیا

 

حصہ بقدرِ تشنہ لبی تو محال تھا

جتنا لہو جگر میں بچا تھا، پیا گیا

 

آخر یہ طے ہوا کہ یہی زندگی جئیں

یعنی کہ اپنے آپ کو دفنا دیا گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ