اردوئے معلیٰ

یوں بھی تو شب کدے کا دریچہ نہ وا ہوا

میں لوٹ کر جو آ نہیں پایا تو کیا ہوا

 

خوابوں کی سرزمین سے پھوٹا تھا میں کبھی

اور خواب دیکھتے ہوئے آخر فنا ہوا

 

لے تھام میری آخری سانسیں بھی اور بتا

ائے عشق تیرا قرض کہاں تک ادا ہوا

 

جلوہ فروز ہے وہ جھروکے میں یاد کے

میں آج بھی ہوں سر کو جھکائے کھڑا ہوا

 

خالی پڑی ہوئی ہے عمارت وجود کی

اک عمر سے ہوں میں کہیں باہر گیا ہوا

 

آنکھوں پہ جیسے ثبت ہوئی آخری جھلک

کانوں میں گونجتا ہے تمہارا کہا ہوا

 

وحشت کے تند و تیز تھپیڑوں پہ رقص ہے

جب سے مرا جنون مرا ناخدا ہوا

 

ائے برق پا حیات تجھے آ ہی لوں گا میں

دہلیز تک تو آ بھی چکا رینگتا ہوا

 

ناصر پسِ غبار مرے رنگ دیکھنا

اس راہ سے کبھی جو ترا لوٹنا ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات