یوں تری یاد میں سلگتے ہیں

یوں تری یاد میں سلگتے ہیں

جیسے صحرا میں پیڑ جلتے ہیں

 

لے اُڑے گی ہوائے دہر ہمیں

ہم خزاں رُت کے زرد پتے ہیں

 

خشک دریا اُنہیں نہیں دُکھتے

جو پرندے اُڑان رکھتے ہیں

 

جوڑتے ہیں تمام دن خود کو

رات بھر ریزہ ریزہ ہوتے ہیں

 

رتجگے کاٹتے ہیں راتوں کو

ہم کہ دن بھر جو نیند بوتے ہیں

 

ہوگئی ہار ، جیت بے معنی

آؤ یہ کھیل ختم کرتے ہیں

 

اِس لئے بے مراد ہیں شاید

دل میں جو آئے کر گزرتے ہیں

 

خواب اُس کے قدم قدم اشعرؔ

آنکھ کے راستے میں آتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو بادل گرج رہے ہیں جناب
اجرتِ آبلہ پائی بھی نہ دے گا سورج
مرے سینے میں اک ٹکڑا فسادی کردیا نا
سب توڑ دیں حدود ، مرا دل نہیں لگا
کسی بھی دشت کسی بھی نگر چلا جاتا
کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے
آقا کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو
بلا لے ہم کو بھی اب کے مدینے یا رسول اللہ
سوچ سفر
جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں

اشتہارات