یوں ترے نام کی تسبیح پڑھا کرتے ہیں

یوں ترے نام کی تسبیح پڑھا کرتے ہیں

جیسے مسجد میں تروایح پڑھا کرتے ہیں

 

یوسفِ عشق تجھے علم ہے کس رغبت سے

دل کے مکتب میں یہ تلمیح پڑھا کرتے ہیں

 

پہلی فہرست میں بس آپ کا نام آتا ہے

پھول چہروں کی جو تشبیہ پڑھا کرتے ہیں

 

آپ فرقت ہی لکھا کرتے ہیں ہر کاغذ پر

اور ہم وصل کو ترجیح پڑھا کرتے ہیں

 

یہ ترے ہونٹ ہیں اشعار ، کبھی آ کے سمجھ

کیسے اشعار کی تشریح پڑھا کرتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ