یوں تو صبح بھی سُندر ہے پیاری ہے

یوں تو صبح بھی سُندر ہے پیاری ہے

پر اپنی عادت شب بیداری ہے

 

سہما سہما سا ہے ہر اِک منظر

چہرہ چہرہ اِک خوف سا طاری ہے

 

سوچو تو کوئی مخلص دوست نہیں

جو دیکھو تو ڈھیروں سے یاری ہے

 

کھوج ہو جس میں اَن دیکھی منزل کا

ایسے ایک سفر کی تیاری ہے

 

اُس کے ترکش میں تیر نہیں شاید

گھائل شخص اُٹھ اب تیری باری ہے

 

’’آمرــ‘‘ کہتا ہے جو مجھ کو اشعرؔ

اُس کا اپنا ذہن بھی تاتاری ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر مسافر ہے سہارے تیرے
اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
تجھ میں اور مجھ میں وہ اب رازو نیاز آئے کہاں؟
گرچہ کم کم تری تصویر نظر آتی ہے
درد کی اپنی ریت وچھوڑا
یار ! تُو میرے درد کو میری سخن وری نہ جان
تمہارے درد سے اپنے ملال سے خائف
حزنیہ ہے کہ طربیہ، جو ہے

اشتہارات