یوں تو صبح بھی سُندر ہے پیاری ہے

یوں تو صبح بھی سُندر ہے پیاری ہے

پر اپنی عادت شب بیداری ہے

 

سہما سہما سا ہے ہر اِک منظر

چہرہ چہرہ اِک خوف سا طاری ہے

 

سوچو تو کوئی مخلص دوست نہیں

جو دیکھو تو ڈھیروں سے یاری ہے

 

کھوج ہو جس میں اَن دیکھی منزل کا

ایسے ایک سفر کی تیاری ہے

 

اُس کے ترکش میں تیر نہیں شاید

گھائل شخص اُٹھ اب تیری باری ہے

 

’’آمرــ‘‘ کہتا ہے جو مجھ کو اشعرؔ

اُس کا اپنا ذہن بھی تاتاری ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ