اردوئے معلیٰ

Search

یوں تو ہر طور سے جینے کا کمال آتا ہے

پر ترے ساتھ نہ رہنے کا ملال آتا ہے

 

کام آنکھوں سے چلا سکتا ہوں لیکن مجھ کو

تیرے بکھرے ہوئے بالوں کا خیال آتا ہے

 

میں بھی چھپ چھپ کے کہیں اشک بہا دیتا ہوں

روز یوں ہی مری آنکھوں پہ زوال آتا ہے

 

میرے اشعار سناتی ہیں ہوائیں مجھ کو

شعر میرے وہ ہواؤں میں اچھال آتا ہے

 

ایک بے چین گھٹا آنکھ میں چھا جاتی ہے

جب اچانک ترے بارے میں سوال آتا ہے

 

رات دن بس یہی ترتیب لگی رہتی ہے

دوسرا غم مجھے پہلے سے، نکال آتا ہے

 

دور ہو کر اسے کچھ اور بھی محسوس کروں

زینؔ اُس شخص کو اک یہ بھی کمال آتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ