اردوئے معلیٰ

Search

یوں سجدۂ تعظیم میں آقا کے پڑی ہے

جیسے یہ جبیں پائے مقدس سے جڑی ہے

 

سو بار ہوئی سجدہ کناں بھی اسی در پر

سو بار یہی عقل ہے جو دل سے لڑی ہے

 

صد شکر کہ پابند ہوں احکامِ نبی کا

نسبت بھی بڑی ہے مری قسمت بھی بڑی ہے

 

انساں ہے نبرد آزما شیطاں سے بہ ہر گام

انساں کا سفر سخت ہے منزل بھی کڑی ہے

 

اعمال کی رُو سے ہے بہت ضعف یقیناََ

لیکن مری ہر نعت سہارے کی چھڑی ہے

 

ماجدؔ پسِ جراحیِ دل شکر کا نغمہ

وادیٔ حرم گوش بر آواز کھڑی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ