اردوئے معلیٰ

Search

یوں لگتا ہے اٹھتا ہوا طوفان وہی ہے

کشتی کو سنبھالو کہ پھر امکان وہی ہے

 

مائل وہ ہوئے بھی ہیں تو کس طرح میں جانوں

یارو درِ دولت پہ تو دربان وہی ہے

 

اس دور کے انساں پہ نئی رائے نہ تھوپو

اچھا یا برا جیسا ہے انسان وہی ہے

 

اس بار بہاروں میں کمی تو نہ تھی لیکن

گلشن کے مہک اٹھنے کا ارمان وہی ہے

 

اے بلبلِ شوریدہ ، بہاروں پہ نہ خوش ہو

تو سمجھی جسے فائدہ ، نقصان وہی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ