یوں مرا قلب مدینے کی طرف جاتا ہے

یوں مرا قلب مدینے کی طرف جاتا ہے

جیسے بیمار ہے جینے کی طرف جاتا ہے

 

ذکر خوشبو کا جو چلتا ہے سرِ بزمِ وفا

دھیان آقا کے پسینے کی طرف جاتا ہے

 

ایسا لگتا ہے مواجہ کی طرف جاتے ہوئے

ہر قدم عرش کے زینے کی طرف جاتا ہے

 

چومتی ہے دلِ مضطر کو سفر کی خواہش

سال جب حج کے مہینے کی طرف جاتا ہے

 

نامِ سرکار جو آتا ہے مرے ہونٹوں پر

ابرِ رحمت مرے سینے کی طرف جاتا ہے

 

ایسے جاتا ہے قلم جانبِ مدحت، جیسے

اک تہی دست خزینے کی طرف جاتا ہے

 

ہر گھڑی شہرِ معطر کی حسیں یادوں کا

قافلہ سبز نگینے کی طرف جاتا ہے

 

یاد رکھ، الفتِ آلِ نبیٔ رحمت کا

راستہ ناجی سفینے کی طرف جاتا ہے

 

رتبۂ نعت عطا ہوتا ہے اشفاق اسے

لفظ جو عجز قرینے کی طرف جاتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اللہ کے بعد نام ہے میرے حضور کا
ہے دل میں جلوۂ رُخِ تابانِ مصطفےٰ
عیدِ میلاد ہے آج کونین میں ، ہر طرف ہے خوشی عیدِ میلاد کی
آنکھوں میں اشک، دل میں ہو الفت رسول کی
اے کاش! تصور میں مدینے کی گلی ہو
آپ نےاک ہی نظرمیں مجھکوجل تھل کردیا
عدو کے واسطے، ہر ایک امتی کے لیے
نہ دولت نہ جاہ وحشم چاہتا ہوں
اندازِ کرم بھی ہے جدا شانِ عطا بھی
محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں

اشتہارات