اردوئے معلیٰ

یکسر مبالغہ بھی سخن ساز کا نہ تھا

ہمسر کوئی بھی سُر تری آواز کا نہ تھا

 

سو تجربوں کی کوکھ سے پھوٹی ہے بزدلی

یہ خوف مرحلہ کوئی آغاز کا نہ تھا

 

وہ آسماں قبول نہیں تھا جنون کو

درپیش مسئلہ مجھے پرواز کا نہ تھا

 

مجھ کو شکوک تھے مرے اپنے نصیب پر

منکر وگرنہ میں ترے اعجاز کا نہ تھا

 

لازم رہا نہ تو بھی ترے عشق کے لیے

محتاج خوش گلوئے جنوں ، ساز کا نہ تھا

 

صدمے قیامتوں کے اٹھانے کی بات تھی

اب کے سوال صرف ترے ناز کا نہ تھا

 

آسودہِ بیان ہو کیا تزکرہ مرا

طرز بیان جب ترے انداز کا نہ تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات