یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا

کہیں ہم نے پتا پایا نہ ہر گز آج تک تیرا

 

صفات و ذات میں یکتا ہے تو اے واحدِ مطلق

نہ کوئی تیرا ثانی ہے نہ کوئی مشترک تیرا

 

جمال ِ احمد و یوسف کو رونق تو نے بخشی ہے

ملاحت تجھ سے شیریں ، حسن ِ شیریں میں نمک تیرا

 

تیرے فیض کرم سے نارو نور آپس میں یک دل ہیں

ثنا گر یک زباں ہر ایک ہے جن و ملک تیرا

 

کسی کو کیا خبر کیوں خیر و شر پیدا کیے تو نے

کہ جو کچھ ہے خدائی میں وہ ہے بے ریب و شک تیرا

 

نہ جلتا طور کیونکر ، کس طرح موسیٰؑ نہ غش آتے

کہاں یہ تاب و طاقت جلوہ دیکھے مردمک تیرا

 

دعا یہ ہے کہ وقت مرگ اس کی مشکل آساں ہو

زباں پر داغ کے نام آئے یارب یک بیک تیرا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو
تُو نے مجھ کو حج پہ بُلایا یا اللہ میری جھولی بھردے
جو چھوڑتا نہیں مجھے تنہا وہی تو ہے
نہیں دل کے مدینے میں کوئی جلوہ نہاں اُس کا
خدا میرا شفیق و مہرباں ہے
سرورِ قلب و جاں ہے، ربِ ہست و بُود تُو ہی تُو
خدا کے ذکر سے دل مطمئن ہیں، خدا کے ذکر سے مسرور جاں ہے
سبھی آفاق سے وہ ماوراء ہے
خدا نے کی عطا اپنی محبت
عبادت ہو خُدا کی اِس ادا سے

اشتہارات