یہی درد ہے میری زندگی کہ عطائے عشقِ رسول ہے

 

یہی درد ہے میری زندگی کہ عطائے عشقِ رسول ہے

جسے تم سمجھتے ہو خار ہے یہ سدا بہار کا پھول ہے

 

سفرِ حبیب کی رفعتیں یہ لطافتیں یہ نظافتیں

ہوئی مس نہ پائے رسول سے کہ یہ کہکشاں بھی تو دھول ہے

 

نہ ہے رنگ عشقِ رسول کا نہ مہک ہے یادِ حبیب کی

بھلا ایسے دل کو میں دل کہوں کہ یہ ایک کاغذی پھول ہے

 

ہے یہی سعادتِ زندگی ہے یہی سرشتئہ بندگی

مری فکر نعت شہِ ہدیٰ مر ورد ذکرِ رسول ہے

 

مرے ہر نفس میں ہے سرخوشی مرا سوز وساز ہے سرمدی

کہ یہاں خزاں کا گذر نہیں یہ بہارِ عشقِ رسول ہے

 

یہی شمس ہے میری آواز ہے کمالِ عزت وآبرو

کہ حضور کہہ دیں غلام سے تری نذر ہم کو قبول ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نامِ شاہِ امم دل سے لف ہو گیا
بشر کی تاب کی ہے لکھ سکے حلیہ محمد کا
ہم بھی مدینے جائیں گے آج نہیں تو کل سہی
پنچھی بن كر سانجھ سویرے طیبہ نگریاجاؤں
آپ کا نامِ نامی ہے وردِ زباں ہے مِرے دل میں ہے بس آرزو آپ کی
آنکھوں نے جہاں خاک اُڑائی ترے در کی
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
جبین شب پر رقم کیے حرف کہکشاں کے
جہاں کی خاک کا ہر ذرہ اک نگینہ ہے
دیارِ احمد مختار چل کے دیکھتے ہیں

اشتہارات