یہی دستور ہے اہلِ وفا کا

یہی دستور ہے اہلِ وفا کا

زبان پر ورد ہو صلِ علیٰ کا

 

بس اک لمحہ ملے وہ چشمِ بینا

کروں دیدار محبوبِ خدا کا

 

کسی مشکل میں گھبراتا نہیں دل

لبوں پر نام ہے مشکل کشا کا

 

سبھی بیمار اچھے ہو رہے ہیں

کرشمہ ہے مدینے کی ہوا کا

 

گنہگاروں کی بخشش اور کیا ہے؟

کرم ہے شافعِ روزِ کا

 

تمدن کی عمارت گر رہی تھی

سہارا مل گیا غارِ حرا کا

 

جدائی میں برنگِ حرفِ مدحت

جواب آیا میری ہر التجا کا

 

مرا پیغام پہنچا ہے مدینے

بڑا احسان ہے بادِ صبا کا

 

ملا ہے مجھ کو ذوقِ نعت گوئی

مقدر ہے فقیر بے نوا کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ