یہی دعا ہے رہیں سبز ہی ترے موسم

یہی دعا ہے رہیں سبز ہی ترے موسم

خدا کبھی نہ دکھائے تجھے ملال کے دن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گزر رہی ہے تری یاد کی حضوری میں
کیا مرے دکھ کی دوا لکھو گے
کون باتیں کرے تصویروں سے
ساون کبھی برسات کبھی تپتی دھوپ
ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن
خموشیوں کی زباں بھی سمجھنا ہو گی اُسے
کیے ہجّے ، پڑھی میں نے محبت
کون زندہ ہے کون مر گیا ہے
لبوں پہ جان ہے اک دم کا اور میہماں ہے
سنتا ہے یہاں کون سمجھتا ہے یہاں کون

اشتہارات