یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا

یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا

اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گِنے چُنے ھوئے سینوں میں جھانکتا ھے یہ نُور
ایک انگڑائی مرے سامنے لہرانے لگی
اگر سزا ہے مقدر تو کیا جزا کی طلب!
تمھاری نظم کی شوخی ، سمجھ نہ پائے گی
اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے
پیار کی باتیں کیجیے صاحب
بہت تلخ لہجہ ہے دنیا کا یارو کہاں
سنتا ہے یہاں کون سمجھتا ہے یہاں کون
رات کوچۂ جاں میں اس قدر اداسی تھی
اس قدر قحط ، تعلق کا پڑا ہے کہ مجھے