اردوئے معلیٰ

یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی

چراغ ہو تو گیا ہے وہ انجمن کا سہی

 

تمام عمر کہ یوں بھی سفر میں گزری ہے

سو اب کی بار زمیں تک سفر تھکن کا سہی

 

جواب یہ کہ فناء لُوٹ لے گی بالآخر

سوال گرچہ ترے شوخ بانکپن کا سہی

 

اسیرِ دشتِ حوادث تو پھر بھی مت کیجے

غزالِ دل کو بڑا پاس اس ختن کا سہی

 

جنوں میں عقل پہ پڑنا تو تھا کوئی پردہ

یہ پارچہ ترے رنگین پیرہن کا سہی

 

یہ تذکرہ ہے ترے بے وقار ہونے کا

یہ مرثیہ مرے حرماں نصیب فن کا سہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات