یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی

یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی

چراغ ہو تو گیا ہے وہ انجمن کا سہی

 

تمام عمر کہ یوں بھی سفر میں گزری ہے

سو اب کی بار زمیں تک سفر تھکن کا سہی

 

جواب یہ کہ فناء لُوٹ لے گی بالآخر

سوال گرچہ ترے شوخ بانکپن کا سہی

 

اسیرِ دشتِ حوادث تو پھر بھی مت کیجے

غزالِ دل کو بڑا پاس اس ختن کا سہی

 

جنوں میں عقل پہ پڑنا تو تھا کوئی پردہ

یہ پارچہ ترے رنگین پیرہن کا سہی

 

یہ تذکرہ ہے ترے بے وقار ہونے کا

یہ مرثیہ مرے حرماں نصیب فن کا سہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
عشق سچا ھے تو کیوں ڈرتے جھجکتے جاویں
تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا
نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو
نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
لاکھ قسمیں دی گئیں ، سو خواب دکھلائے گئے