اردوئے معلیٰ

Search

یہی ہے آرزو ایسی کوئی تدبیر ہو جائے

مدینے کا سفر یا رب مری تقدیر ہو جائے

 

ہمیشہ حاضری ہوتی رہے آقا کی چوکھٹ پر

اشارہ آپ فرما دیں تو کیوں تاخیر ہو جائے

 

سمو لُوں اپنی آنکھوں میں اُجالا سبز گنبد کا

مری تو زندگی میں ہر طرف تنویر ہو جائے

 

بناؤں دل کے کاغذ پر میں نقشہ شہرِ طیبہ کا

ہمیشہ کے لئے محفوظ یہ تصویر ہو جائے

 

ثنا گوئی میں گزرے زندگی آقا کی نگری میں

بڑی ہی خوبصورت خواب کی تعبیر ہو جائے

 

شہِ والا یہ فرما دیں ،بہت ہی خوبصورت ہے

کوئی تو نعت ایسی ناز سے تحریر ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ