اردوئے معلیٰ

یہ ادنیٰ حمدِ خالق میں ہے آدابِ رقم میرا

یہ ادنیٰ حمدِ خالق میں ہے آدابِ رقم میرا

کہ چلتا ہے تو سر کے بل ہی چلتا ہے قلم میرا

 

مجھے بھرنے دے سرد آہیں کہ شب بیدار فرقت میں

اُڑاتی ہے عبث خاکا نسیمِ صبح دم میرا

 

اذیت پاؤں تکلیفیں اٹھاؤں سختیاں جھیلوں

مگر ٹھوکر نہ کھائے راہ میں تیری قدم میرا

 

تری جاں بخشیوں پر بھی ہوں اپنی جان کا دشمن

عجب ہے وہ کرم تیرا ، غضب ہے یہ ستم میرا

 

وہ بیکس تھا وہ بے بس ہوں کہ دنیا میں ہوا احسنؔ

نہ کوئی جیتے جی میرا ، نہ کوئی مرتے دم میرا

 

جو بگڑی ابتدا میری تو کچھ پروا نہیں اس کی

مگر ہو خاتمہ بالخیر احسنؔ مرتے دم میرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ