اردوئے معلیٰ

Search

یہ ان کی نوازش ہے کہ ہم جھوم رہے ہیں

ورنہ دل ناشک پہ تو غم جھوم رہے ہیں

 

محروم نہیں کوئی بھی فیضان نظر سے

وجدان میں گہرے ہیں جو کم جھوم رہے ہیں

 

مضمون انوکھے ہیں بہت نعت نبی کے

سن سن کے جنہیں لوح و قلم جھوم رہے ہیں

 

کیا جانئے کی نام دیا ان نے اجل کو

پروانے سر تیغ ستم جھوم رہے ہیں

 

دنیا ہی نہیں ان کی فتوحات میں شامل

افلاک پہ بھی ان کے علم جھوم رہے ہیں

 

اک طرفہ تماشا ہے رہِ یار کا منظر

اٹھ اٹھ کے سبھی نقش قدم جھوم رہے ہیں

 

کس حسن جہاں تاب کے جلووں کا اثر ہے

’’ہر سمت غزالان حرم جھوم رہے ہیں‘‘

 

شعروں میں ترے ایسی کوئی بات نہیں نذر

احباب تو از راہ کرم کو جھوم رہے ہیں

 

اس سے بھی فن شعر کو ملتی ہے جلا اور

احباب جو از راہِ کرم جھوم رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ