یہ ان کی نوازش ہے کہ ہم جھوم رہے ہیں

یہ ان کی نوازش ہے کہ ہم جھوم رہے ہیں

ورنہ دل ناشک پہ تو غم جھوم رہے ہیں

 

محروم نہیں کوئی بھی فیضان نظر سے

وجدان میں گہرے ہیں جو کم جھوم رہے ہیں

 

مضمون انوکھے ہیں بہت نعت نبی کے

سن سن کے جنہیں لوح و قلم جھوم رہے ہیں

 

کیا جانئے کی نام دیا ان نے اجل کو

پروانے سر تیغ ستم جھوم رہے ہیں

 

دنیا ہی نہیں ان کی فتوحات میں شامل

افلاک پہ بھی ان کے علم جھوم رہے ہیں

 

اک طرفہ تماشا ہے رہِ یار کا منظر

اٹھ اٹھ کے سبھی نقش قدم جھوم رہے ہیں

 

کس حسن جہاں تاب کے جلووں کا اثر ہے

’’ہر سمت غزالان حرم جھوم رہے ہیں‘‘

 

شعروں میں ترے ایسی کوئی بات نہیں نذر

احباب تو از راہ کرم کو جھوم رہے ہیں

 

اس سے بھی فن شعر کو ملتی ہے جلا اور

احباب جو از راہِ کرم جھوم رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ