یہ اور بات غلامی قبول کی تیری

یہ اور بات غلامی قبول کی تیری

ہمارے سامنے رکھی تھی حکمرانی بھی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

قہقہوں سے لدے پھندے ھوئے شخص
پھول بھی نقلی دیے اور عطر بھی جُھوٹا دیا
یہ زرد شال میں لپٹی ہوئی حسیں لڑکی
ہر دم دم آخر ہے اجل سر پہ کھڑی ہے
یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا
بزم احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
تو میں وہموں کی ماری بس وہیں پر بیٹھ جاتی ہوں
اور میں شیشے کی طرح ٹوٹ گئی گرتے ہی
مرے بچے ! تری دولہن کچن آکر سنبھالے گی
کیا یہ سچ ہے کہ خزاں میں بھی چمن کھلتے ہیں

اشتہارات