یہ بھی حسرت کوئی تدبیر سکوں ہے کیا خوب

یہ بھی حسؔرت! کوئی تدبیرِ سُکوں ہے، کیا خُوب

دِلِ بے تاب سے کہتے ہو، اُنھیں یاد نہ کر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کیے ہجّے ، پڑھی میں نے محبت
کون زندہ ہے کون مر گیا ہے
لبوں پہ جان ہے اک دم کا اور میہماں ہے
سنتا ہے یہاں کون سمجھتا ہے یہاں کون
رات کوچۂ جاں میں اس قدر اداسی تھی
اس قدر قحط ، تعلق کا پڑا ہے کہ مجھے
یہ بھی ممکن ہے تیری جدائی میں سنور جاؤں میں
ہم کون شناور تھے کہ یوں پار اترتے
یہی کانٹے تو کچھ خود دار ہیں صحن گلستاں میں
دل بھی اب ٹھہر گیا درد بھی خاموش سا ہے

اشتہارات