اردوئے معلیٰ

Search

یہ بھی موسم کی کوئی سازش نہ ہو

ابر ہو لیکن یہاں بارش نہ ہو

 

اس قدر بھی چاہنا کیا چاہنا

عشق شدت سے ہو اور خواہش نہ ہو

 

ایسی غربت کو خدا غارت کرے

پھول بھجوانے کی گنجائش نہ ہو

 

تم تو یوں ضد پر اتر آئے ہو آج

آخری خواہش ہو فرمائش نہ ہو

 

گل کو خوشبو سے اگر ناپا گیا

عمر بھر ممکن ہے پیمائش نہ ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ