اردوئے معلیٰ

یہ بہاروں میں چمن کی داستاں ہو جائیگا

یہ بہاروں میں چمن کی داستاں ہو جائے گا

غنچہ معصوم کانٹوں میں جواں ہو جائے گا

 

خار میری حسرتوں کے آپ کے جلووں کے پھول

یہ بہم ہو جائیں تو ,اک گلستاں ہو جائے گا

 

آپ بھی روشن رکھیں اپنی محبت کے چراغ

یہ دیئے گل ہو گئے تو پھر دھواں ہو جائے گا

 

مثبت و منفی اشاروں سے ترا پہلا پیام

بے تکلمّ ہی نوشتِ داستاں ہو جائے گا

 

اجنبی سے اس لیے دامن بچاتا ہوں ضیاؔء

آشنا ہونے سے پہلے رازداں ہو جائے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ