یہ جبیں لا مکاں سے ملتی ہے

یہ جبیں لامکاں سے ملتی ہے

جب ترے آستاں سے ملتی ہے

 

ایک نامہرباں سے اپنی نظر

جیسے اک مہرباں سے ملتی ہے

 

نوجوانوں سے پوچھتے ہیں پیر

نوجوانی کہاں سے ملتی ہے

 

میکدے بند ہیں ضیاؔ جب سے

شہر میں ہر دکاں سے ملتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ