یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں

آپ ہی کی بہار ہے سائیں

 

آپ چاہیں تو جان بھی لے لیں

آپ کو اختیار ہے سائیں

 

تم ملاتے ہو بچھڑے لوگوں کو

ایک میرا بھی یار ہے سائیں

 

کسی کھونٹے سے باندھ دیجے اسے

دل بڑا بے مہار ہے سائیں

 

عشق میں لغزشوں پہ کیجے معاف

سائیں! یہ پہلی بار ہے سائیں

 

کل ملا کر ہے جو بھی کچھ میرا

آپ سے مستعار ہے سائیں

 

ایک کشتی بنا ہی دیجے مجھے

کوئی دریا کے پار ہے سائیں

 

روز آنسو کما کے لاتا ہوں

غم مرا روزگار ہے سائیں

 

وسعت رزق کی دعا دیجے

درد کا کاروبار ہے سائیں

 

خار زاروں سے ہو کے آیا ہوں

پیرہن تار تار ہے سائیں

 

کبھی آ کر تو دیکھیے کہ یہ دل

کیسا اجڑا دیار ہے سائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
سمجھ تو سکتے نہیں تُم نوائے خلقِ خُدا
یاد رکھ ، خُود کو مِٹائے گا تو چھا جائے گا
بدن میں دل کو رکھا ہے بنا کے خانہِ عشق
کچھ تو اپنے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
وہ بھی اب مجھ کو بہ اندازِ زمانہ مانگے
اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو
کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا
اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے
ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں

اشتہارات