اردوئے معلیٰ

Search

یہ جو پھولوں میں تازگی ہے ابھی

وہ مرے خواب دیکھتی ہے ابھی

 

اک تو معصوم سی وہ لڑکی ہے

اور محبت نئی نئی ہے ابھی

 

میں تو کب کا بھلا چکا اس کو

وہ مگر مجھ کو سوچتی ہے ابھی

 

کوئی دل میں پکارتا ہے مجھے

ایک آواز گونجتی ہے ابھی

 

ترا دریا اتر چکا لیکن

میری آنکھوں میں تشنگی ہے ابھی

 

اس گلی میں کوئی فسوں ہے یا

کوئی دیوار بولتی ہے ابھی

 

ضبط ٹوٹا نہیں مرا قیصرؔ

زندگی،موت سے جڑی ہے ابھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ