یہ جُود و کرم آپؐ کا ہے، فیض و عطا ہے

یہ جُود و کرم آپؐ کا ہے، فیض و عطا ہے

سُوکھا ہوا اک پیڑ ہرا پھر سے کیا ہے

 

الطاف و عنایاتِ خُدا، عشقِ محمدؐ

سب کچھ ہے مرے پاس، یہ سب اُنؐ کا دیا ہے

 

محبوبؐ کی خاطر ہی بنایا گیا سب کچھ

محبوبؐ خُدائی کا، وہ محبوبِ خُدا ہے

 

تاریک جہاں سارے ہوئے جس سے مُنوّر

سرکارؐ کے انوار کا روشن وہ دیا ہے

 

سرکارؐ نے بھٹکے ہوئے لوگوں کو بتایا

معبود ہے اللہ ہی، وہی سب سے بڑا ہے

 

اک بندۂ مسکین کو دربان بنا کر

سرکارؐ نے کتنا بڑا احسان کیا ہے

 

سرکارؐ کی چوکھٹ سے ظفرؔ سر نہ اُٹھانا

یوں تیرا بھلا ہو گا، یہی اُنؐ کی رضا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
محبت جاگزیں دل میں خُدا کی
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
جہاں نقشِ قدم واں پر جبیں ہو
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
ثنائے کبریا دِن رات لکھوں
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جلالِ کبریا ہر سُو عیاں ہے
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد

اشتہارات