یہ حسن کائنات میں بکھرا اسی کا ہے

یہ حسن کائنات میں بکھرا اسی کا ہے

حیرت سے اس کو دیکھنے والا اسی کا ہے

 

احساس کے افق پہ چمکتا ہے اس کا چاند

جس سے میں دیکھتا ہوں دریچہ اسی کا ہے

 

جتنی ہیں درمیاں ہیں اسی کی نشانیاں

مکہ عطا اسی کی مدینہ اسی کا ہے

 

ہونے کا اس کے دیتی ہے ہر ایک شے پتہ

روشن ہر ایک سمت حوالہ اسی کا ہے

 

سدرہ کی وسعتوں میں اسی کے کرم کی گونج

کرسی اسی کی عرش معلی اسی کا ہے

 

آغوش میں طلسم کے دریا جو قید ہوں

پانی میں ماہتاب اترتا اسی کا ہے

 

اطراف مشک زار ہیں اس کے ہی مشک سے

ہرنوں کا جھنڈ اس کا ہے صحرا اسی کا ہے

 

بادِ صبا کے خامے سے قرطاسِ صبح پر

لکھے جو روشنی ، وہ قصیدہ اسی کا ہے

 

اس کی عطا ہیں ، خواب مرے ، آرزو مری

میرا ہر ایک حرف تمنا اسی کا ہے

 

رحمت کا ، رنگ زار کا ، جود و نوال کا

ہر گام پر جو نصب ہے خیمہ اسی کا ہے

 

آرام گاہ اس کے ہی محبوب کی تو ہے

کہہ دو مجیبؔ گنبد خضرا اسی کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں تیرا فقیر ملنگ خدا
تو اعلیٰ ہے ارفع ہے کیا خوب ہے​
اے میرے مولا، اے میرے آقا، بس اپنے رستے پہ ڈا ل دے توُ
جانوں ترا جلال سنہرے ترے اصول
خداوندا! مرا دل شاد کر دے
کرے آباد گھر سُنسان میرا
محبت خلق سے رب العلیٰ کی
میں عاصی پُر خطا ہوں اور تو ستّار بھی غفار بھی ہے
صدائے کن فکاں اللہ اکبر
خدا ہم درد و مُونس مہرباں ہے

اشتہارات