یہ خوف سانپ کا دل سے نکالنا ہے مجھے

یہ خوف سانپ کا دل سے نکالنا ہے مجھے

سو آستین میں اک سانپ پالنا ہے مجھے

 

نہیں ہے اجنبی مہتاب کی مجھے حاجت

یہ رات اپنے دیوں سے اجالنا ہے مجھے

 

یہ کھیل عشق کا ہے اس میں مات ہے ہی نہیں

ہوا میں عشق کا سکہ اچھالنا ہے مجھے

 

یہ رستہ عام ہے اس پر تو سب ہی چلتے ہیں

پئے سفر نیا رستہ نکالنا ہے مجھے

 

یہ میرے سینے کے پنجرے سےاڑ نہ جائے کہیں

سو اس پرندہء دل کو سنبھالنا ہے مجھے

 

خطا معاف اگر میرا بس چلے تو ابھی

خرد کو عشق کے سانچے میں ڈھالنا ہے مجھے

 

رہ ہوس سے بچا کر رہ محبت پر

کہ نا سمجھ دل نوری کو ڈالنا ہے مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ