یہ دل سکونت خیرالانام ہو جائے

 

یہ دل سکونت خیرالانام ہو جائے

دکھوں بلاؤں کی میرے بھی شام ہو جائے

 

میں حسن آقا کے ہر زاوئیے پہ نعت لکھوں

مجھے جو جلوہ ماہِ تمام ہو جائے

 

عطا ہو طوقِ گدائی حضور مجھ کو اگر

تو دوجہانوں میں میرا بھی نام ہو جائے

 

وضو کریں جو سخن آبِ عشق و مستی سے

تو ان کی شان میں اعلی کلام ہو جائے

 

نظر ہو گنبدِ خضری پہ اور موت آئے

کہ اس طرح سے یہ لطفِ دوام ہو جائے

 

یہ آرزو ہے قیامت میں آپ سے یہ کہوں

حضور آپ کے ہاتھوں سے جام ہو جائے

 

میں چاہتا ہوں فرشتے بھی قبر میں یہ کہیں

کہ اٹھ خلیل درود و سلام ہو جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھے کامل یقین ہے، التجاؤں میں اثر ہو گا
بے نوا ہوں مگر ملال نہیں
عشق کا ہے یہ ہنر،میں ہوں یہاں نعت خواں
سرکار کی مدحت کو ہونٹوں پہ سجانا ہے
’’اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب‘‘
جبینِ خامہ حضورِ اکرم کے سنگِ در پر جھکائے راکھوں
کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی
میم تیرے نام کی تلخیصِ ہست و بود ہے
پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
آپؐ سے میری نسبت مرا فخر ہے

اشتہارات