یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ

 

یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ
خدا كے كرم كا ، اشارہ مدینہ

 

معنبر معنبر فضائیں یہاں كی
معطّر معطّر ہے سارا مدینہ

 

بہشتِ بریں كا جو پوچھا كسی نے
تو بے ساختہ مَیں پكارا، مدینہ

 

عطا ہی عطا ہے سخا ہی سخا ہے
خطا كار كا ہے سہارا مدینہ

 

كبھی بھول كر بھی نہ جنت كا سوچے
نہ ہو جس كے دل كو گوارا مدینہ

 

شہہِۖ دوسرا كا یہ مسكن ہے فیضؔی
ہمیں جان و دِل سے ہے پیارا مدینہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
ذات عالی صفات کے صدقے

اشتہارات