اردوئے معلیٰ

یہ روگ ہجراں کے پیچ اور خم سے لگ نہ جائے

ہمارا شانہ کسی نئے غم سے لگ نہ جائے

 

یہ سرد چہرہ سلگ رہا ہے عجب تپش ہے

کہ آگ آنکھوں کے بہتے اس نم سے لگ نہ جائے

 

کچھ اس لئے بھی میں یہ تعلق نبھا رہی ہوں

وہ شخص بستر سے ، اب مرے غم سے لگ نہ جائے

 

ذرا ذرا سے ہمیں میسر بھی کیوں رہو تم ؟

ہمیں زیادہ کا حرص اس کم سے لگ نہ جائے

 

سو اب محبت کو ترک کرنا پڑے گا کومل

ہمارے بچوں کو یہ نشہ ہم سے لگ نہ جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات