اردوئے معلیٰ

Search

یہ روگ ہجراں کے پیچ اور خم سے لگ نہ جائے

ہمارا شانہ کسی نئے غم سے لگ نہ جائے

 

یہ سرد چہرہ سلگ رہا ہے عجب تپش ہے

کہ آگ آنکھوں کے بہتے اس نم سے لگ نہ جائے

 

کچھ اس لئے بھی میں یہ تعلق نبھا رہی ہوں

وہ شخص بستر سے ، اب مرے غم سے لگ نہ جائے

 

ذرا ذرا سے ہمیں میسر بھی کیوں رہو تم ؟

ہمیں زیادہ کا حرص اس کم سے لگ نہ جائے

 

سو اب محبت کو ترک کرنا پڑے گا کومل

ہمارے بچوں کو یہ نشہ ہم سے لگ نہ جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ