یہ زمیں تیری ، آسمان ترا

یہ زمیں تیری ، آسمان ترا

اور اس کے جو درمیان ترا

 

یہ زمان و مکان تیرے ہیں

یہ جہاں تیرا ، وہ جہان ترا

 

ثبت ہر قرن ، ہر زمانے پر

تجھ سے پہلے بھی تھا نشان ترا

 

ہم طلب گار تیریؐ رحمت کے

ہم پہ چھت تیریؐ ، سائبان ترا

 

سارے مشغول ہیں گدائی میں

سنگِ در تیراؐ ، آستان ترا

 

میں گنہ گار لاکھ ہوں اشعرؔ

پر یہ دل میرا ہے مکان ترا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپﷺ آئے تو مہک اٹھا بصیرت کا گلاب
تیرا نادان آقا کوئی اور ہے
جب ان کے روضۂ اقدس کو بند آنکھوں سے تکتے ہیں
کرم کا خاص وسیلہ ہے ذکرِ شاہِ انام
نہ قیدِہست نہ صدیوں کی حد ضروری ہے
تصور میں مدینے کی فضا ہے اور میں ہوں
حسن اتم ہو پیکر لطف تمام ہو
پڑا ہے اسمِ نبی سے رواج حرفوں کا
اے کریم! نادم ہوں، شرم ہے نگاہوں میں
معجزاتِ کن فکاں کا ایک ہی مفہوم ہے