اردوئے معلیٰ

یہ سلسلۂ عشقِ ولایت ہے علی سے

اک اور نیا بابِ سخن کھولا ہے میں نے

میزانِ محبت میں گہر تولا ہے میں نے

اس روح پہ لکھا سانسوں سے جو مولا ہے میں نے

شبیر کو معلوم ہے کیا بولا ہے میں نے

 

یہ علم ہے صفدر مجھے قسمت کا دھنی ہوں

مولائی ہوں میں حیدری ہوں پنجتنی ہوں

 

فن مجھ کو ملا ہے یہ نبی زاروں کے در سے

زہرا تری چوکھٹ سے محمد ترے گھر سے

لفظوں کو عطا روشنی ہو شمس و قمر سے

طالب ہوں فقط داد کا اربابِ ہُنر سے

 

اس بزم میں اب نور جو اُترے گا وہ تکنا

ہر سمت گلستان جو بکھرے گا وہ تکنا

 

اس بزم میں ہے مدحتِ شبیر کی خوشبو

جس طرح سے ہیں شام نے کھولے ہوئے گیسو

خوشبو مرے الفاظ کی پھیلی ہوئی ہر سو

ہر لفظ کو تولے ہے مودت کا ترازو

 

ماتم کے ہیں یہ داغ جو سینے پہ سجے ہیں

صفدر تجھے سرخاب کے پر آج لگے ہیں

 

ہر بند میں ہر مصرعہ مودت کا ہے اظہار

آیات کی طرح سے ہے اشعار کا معیار

پھیلی ہوئی مجلس میں فقط نکہتِ افکار

ایسے میں ہوں خوشنودیِ مولا کا طلبگار

 

ہر بیت میں جو فکر کا ایک پھول کھلے گا

اس کا تو صلہ ساقیِ کوثر سے ملے گا

 

ایسے میں قلم میرا جو قندیلِ حرم ہے

احسان ہے شبیر کا اللہ کا کرم ہے

اک وصفِ جداگانہ یہ اندازِ رقم ہے

سچ پوچھیں اگر آپ قلم،میرا علم ہے

 

انوارِ محمد کا بیاں ہے سرِ محفل

ہر حرف مرا نور فشاں ہے سرِ محفل

 

اللہ کی ہاں رحمتِ بے حد کی قسم ہے

ہاتھوں میں ترے مولا عقیدت کا بھرم ہے

الفاظ کی صورت میں ترا ابرِ کرم ہے

ہر لفظ مرا جاہ و حشم ،ناز و نعم ہے

 

اس فکر کی حد ہے اسے معراج ہوئی ہے

معراج یہ اب سر کا مرے تاج ہوئی ہے

 

میں جانتا ہوں خوب ہے کیا مدح کی منزل

ہوں اُس کا مدح خوان جو ہے عشق میں کامل

وہ جس کی مودت میں دھڑکتا ہے مرا دل

یہ لفظ کہاں انکی ثنا خوانی کے قابل

 

اُن کا جو کرم ہو تو یہ دشوار نہیں ہے

مطلوب مرا وہ ہے فلک جس کی زمیں ہے

 

اشعار میں اب بجلی چمک جائے گی تکنا

سورج کی طرح بیت دمک جائے گی تکنا

اب ساری فضا جیسے مہک جائے گی تکنا

اس عشق میں بینائی دہک جائے گی تکنا

 

الفاظ کو معلوم ہے یہ حدِ ادب ہے

اب سامنے لو اُن کے مرا دستِ طلب ہے

 

اے دستِ طلب فکر نہ کر ہم ہیں ترے ساتھ

اے گردشِ ایام ٹھہر ہم ہیں ترے ساتھ

مت ڈال زمانے پہ نظر ہم ہیں ترے ساتھ

دے دنیا کو فردا کی خبر ہم ہیں ترے ساتھ

 

اے دستِ طلب ہو کوئی اسباب کی صورت

تارہ بھی نظر آئے جو ماہتاب کی صورت

 

اے دستِ طلب مانگ لے اُس در کی رسائی

جس در کے غلاموں میں بھی ہے عقدہ کُشائی

اس در پہ شہنشاہوں کی عزت ہے گدائی

اس در کی فقیری ہے دو عالم کی خدائی

 

یہ در ہے وہ در جس سے ہر اعزاز ملا ہے

جینے کا یقیں،مرنے کا انداز ملا ہے

 

اے دستِ طلب جھکنا نہیں دولتِ زر پر

ہووے نہ تکبر کہیں لکھنے کے ہُنر پر

کرنا نہ بھروسہ کبھی شب پر نہ سحر پر

نکلو جو کبھی مرثیہ لکھنے کے سفر پر

 

تاثیرِ سخن،زورِ قلم ساتھ میں رکھنا

دل درد سے لبریز تو غم ہاتھ میں رکھنا

 

اے دستِ طلب گرمیِ بازارِ سخن دیکھ

مجلس میں ہے پھیلا ہوا انوارِ سخن دیکھ

مولا کے تصدق میں یہ دربارِ سخن دیکھ

ہاں کیفیتِ قلب تو اظہارِ سخن دیکھ

 

یہ مرثیہ لکھنا بھی فضیلت کا نشاں ہے

ماہتاب ہے یہ وہ کہ جو محشر میں عیاں ہے

 

اے دستِ طلب کر لے طلب جدتِ افکار

یہ مرثیہ ہے نظم و غزل کے نہیں اشعار

عشق آلِ محمد سے ہے ان شعروں کا معیار

ہر دم رہو خوشنودیِ حیدر کے طلبگار

 

جو دل میں طلب ہے وہ پیمبر سے ملے گی

بن کر یہ دعا پھول مرے لب پہ کھلے گی

 

ہر لفظ کہ جس طرح گُلِ باغِ ارم ہے

بے شک ہے دعا زہرا کی زینب کا کرم ہے

یوں ذہن کشادہ ہے کہ جوں بابِ حرم ہے

کوثر کی طرح پاک مرا دیدۂ نم ہے

 

ہر بیت پہ ہاں مرحبا جبریل کہے گا

اب نام مرا دیکھنا تا حشر رہے گا

 

اللہ کے مطلوب ہیں جو اُن کا بیاں ہے

اس گھر کا ہر اک فرد محمد کی زباں ہے

یہ عشق بھی سچ ہے کہ عیاں ہو کے نہاں ہے

اس گھر کی حفاظت میں اقامت ہے اذاں ہے

 

ایمان کی طرح جو فروزاں یہ وہ گھر ہے

تاریکیوں میں ہے جو چراغاں یہ وہ گھر ہے

 

اس گھر میں ہر اک پیرو جواں اہلِ نظر ہے

سچ بات تو یہ مرکزِ امیدِ ظفر ہے

یہ وہ ہیں جنہیں ہر کس و ناکس کی خبر ہے

دہلیز یہ معراج کی بھی راہ گزر ہے

 

اس در کا مَلَک،نجم و قمر چوم رہا ہے

اس در پہ زمیں کیا ہے فلک گھوم رہا ہے

 

اس گھر میں مشیت کو مچلتے ہوئے دیکھا

اس در پہ پہاڑوں کو بھی چلتے ہوئے دیکھا

پانی کو یہاں آگ اگلتے ہوئے دیکھا

ہاں حُر کے مقدر کو بدلتے ہوئے دیکھا

 

موت ان سے طلب کرتی ہے جینے کی اجازت

ملتی ہے اسی در سے مدینے کی اجازت

 

یہ وادیِ پُر نور ہے صحرائے زماں میں

پیغامِ بہاراں ہے یہ گھر فصلِ خزاں میں

یوں ذکر انہی کا ہوا قرآں میں اذاں میں

بخشش کا وسیلہ ہے یہ گھر دونوں جہاں میں

 

اللہ نے اس گھر کو جہاں ساز کہا ہے

کُن میں جو نہاں ہے اسے وہ راز کہا ہے

 

اس در سے خورشید نمودار ہوا ہے

صحرا اسی دہلیز پہ گُلزار ہوا ہے

انساں کا مقدر یہیں بیدار ہوا ہے

خالق کی تمناؤں کا اظہار ہوا ہے

 

بھٹکے ہوئے انساں کو یہی راہ دکھا دیں

ذرے کو اگر چاہیں تو ماہتاب بنا دیں

 

یہ قبلۂ ایمان ہیں یہ کعبۂ حاجات

دن کی طرح روشن ہے اسی در پہ سیاہ رات

ہاں وصفِ عزاداری اسی گھر کی ہے سوغات

تم چاہو تو اس در پہ بدل سکتے ہو حالات

 

اس آئینۂ دل کو جِلا ان سے ملی ہے

ہاں شمس و قمر کو بھی ضیا ان سے ملی ہے

 

اس در کے فقیروں میں سلاطینِ زماں ہیں

ہو بات اگر عزم کی تو کوہِ گراں ہیں

ان ہی کے تصدق میں تو احساس جواں ہے

خالق نے کہا ان کو جہاں کے نگراں ہیں

 

ہم ان سے محبت یونہی بے جا نہیں رکھتے

یہ اپنے تسلط میں بھلا کیا نہیں رکھتے

 

اس در پہ ٹھہر جاتی ہے ہاں گردشِ ایام

اُترے ہیں ستارے اسی چوکھٹ پہ ہر اک شام

ہاں صبر کی دولت ہے میسر یہاں ہر گام

روشن ہے یہاں صبح کی طرح شبِ آلام

 

فطرت کی رواں نبض یہاں رُک نہیں سکتی

ناپاک جبیں آ کے یہاں جھُک نہیں سکتی

 

اس در پہ سمجھ آتی ہے ہر رمزِ مشیت

صدقے میں انہی کے ملی آدم کو فضیلت

قرآن کی آیات کی یہ گھر ہے وضاحت

ہے ان کے مزاجوں سے عیاں اللہ کی عادت

 

انساں کو یہیں تحفۂ آواز ملا ہے

جبریل کو تسبیح کا اعزاز ملا ہے

 

ہے بعدِ خدا گھر یہی تقدیس کا محور

اس گھر سے نظر آتا ہے معراج کا منظر

بے شک ہے یہ گھر مرکزِ انوارِ پیمبر

ہاں خوشبوئے حسنین سے یہ گھر ہے معطر

 

پروانۂ جنت کے لیئے ہم کو خبر ہے

اللہ کا در ہے یا ید اللہ کا در ہے

 

اس گھر کی ہے بنیاد میں ایماں کی حرارت

جو ان کی رضا ہے وہی اللہ کی مشیت

یہ حفظِ عبادت ہیں یہ بنیادِ عبادت

اس گھر کی اطاعت میں ہے اللہ کی اطاعت

 

تطہیر کی آیات میں اس در کی ہے تعریف

یہ سورۂ کوثر بھی اسی گھر کی ہے تعریف

 

اس گھر کی فضا رشکِ گلستانِ ارم ہے

توصیف میں ان کی جو زیادہ لکھو کم ہے

خالق نے جو کھائی ہے وہ ان ہی قَسَم ہے

اس گھر کی مدح ذکرِ شہنشاہِ اُمم ہے

 

لیں سانس تو خوشبوئے صبا پھیلتی جائے

انوار کی بارش سے ضیا پھیلتی جائے

 

اس گھر میں کھِلی روشنیِ صبحِ ازل ہے

کوثر کے چمکتے ہوئے پانی کا کنول ہے

اس در پہ ہر اک پنجۂ طاغوت بھی شل ہے

ان کے جو حرف لکھا تاج محل ہے

 

اس در پہ کوئی راز بھی پنہاں نہیں رہتا

جو ان اک انہیں اُس کا تو ایماں نہیں رہتا

 

اس گھر کو ملائک نے کہا عرش کا زینہ

انہوں نے ہی سکھلایا ہے سجدوں کا قرینہ

اس گھر کا ہر اک فرد شہادت کا نگینہ

یہ گھر ہے نجف، کرب و بلا، مکہ،مدینہ

 

دیواریں پڑھیں اس کی پیمبر کا قصیدہ

رضوان نے خود لکھا ہے اس گھر کا قصیدہ

 

یہ گھر ہے یا اللہ کی عظمت کا نشاں ہے

ہر ایک مکیں اس کا مسیحائے جہاں ہے

گونگی ہوئی اس بزم میں موسیٰ کی زباں ہے

اس گھر پہ فرشتوں کو بھی کعبے کا گماں ہے

 

اس گھر کی زمیں خطۂ فردوسِ بریں ہے

گھر ایسا جہانوں میں کوئی اور نہیں ہے

 

خیرات ہیں اس گھر کی یہ سب چاند ستارے

جبریل بھی اس در پہ مقدر کو سنوارے

یہ وہ ہیں بدل دیتے ہیں جو وقت کے دھارے

بخشش کے لیئے نوح بھی اس در پہ پکارے

 

خود رب نے بھی ہاں مرضیِ رب ان کو کہا ہے

تخلیقِ دو عالم کا سبب ان کو کہا ہے

 

یہ گھر ہے یا پھر ہے حرمِ خالقِ اکبر

ہے اس کی زمیں عرشِ معلیٰ کے برابر

اس مٹی کے ذروں میں ہے نورِ مہ و اختر

اس گھر میں ہے پھیلی ہوئی خوشبوئے پیمبر

 

اس گھر کا شرف بیتِ الہی سے ملا ہے

صحرائے عرب میں جوں کوئی پھول کھِلا ہے

 

ایمان کی تعلیم کا مرکز ہے یہی گھر

ہاں کوثر و تسنیم کا مرکز ہے یہی گھر

عرفان کی تقسیم کا مرکز ہے یہی گھر

الحمد کی تفہیم کا مرکز ہے یہی گھر

 

یہ در درِ حسنین ہے یہ معبدِ حق ہے

یاں پہلا سبق شوقِ شہادت کا سبق ہے

 

اس خانۂ زہرا کو کہو نور کا مخزن

یہ گھر نہیں گلہائے محمد کا ہے مسکن

سوچوں سے فزوں ان کی عنایات کا دامن

والشمس کی طرح سے ہر اک چہرہ ہے روشن

 

اللہ نے انہیں لائقِ تعظیم کہا ہے

یٰسین کہا،احسنِ تقویم کہا ہے

 

اس گھر نے سکھایا ہے محبت کا قرینہ

یہ درس اسی گھر سے ملا موت ہے جینا

اعزاز اسی گھر کا شہنشاہِ مدینہ

وہ نوح کا سفینہ تھا یہ حیدر کا سفینہ

 

دہلیز کو اس گھر کی صبا چوم رہی ہے

تک تک کے اسے غارِ حرا جھوم رہی ہے

 

یہ غارِ حرا شاہدِ اقرارِ رسالت

دامن میں لیئے دونوں جہانوں کی تھی رحمت

اس غار کی قسمت تھی محمد کی عبادت

اب تک ہے یہ اعلانِ نبوت کی علامت

 

انوار کی بارش ہوئی اس غار پہ دن رات

مسحور ہے یہ قسمتِ بیدار پہ دن رات

 

ہوتا ہے یہاں صبح و مسا ذکرِ محمد

کرتی ہے یہاں آ کے صبا ذکرِ محمد

کونین کے خالق کی عطا ذکرِ محمد

سچ پوچھیں تو ہے ذکرِ خُدا،ذکرِ محمد

 

جبریلِ امیں لائے یہیں تاجِ رسالت

اللہ بھی پہنائے یہیں تاجِ رسالت

 

یہ غارِ حرا مسکنِ خورشیدِ نبوت

یہ غارِ حرا شاہدِ اعلانِ نبوت

اسلام کے آغاز کی یہ پہلی شہادت

لہرایا ملائک نے یہیں پرچمِ وحدت

 

یہ غار گواہی بنی نورِ ازلی کی

یاں پر بھی محمد کو ضرورت تھی علی کی

 

لاریب رسالت کا نگہبان علی ہے

اسرارِ الہی کا گلستان علی ہے

ہر سلسلۂ خیر عنوان علی ہے

اسلام پہ اللہ کا احسان علی ہے

 

کیا جنگ علی کی تھی محمد کے عدو سے

یہ فیض بھی پہنچا ابوطالب کے لہو سے

 

سچ کہہ دوں محمد کا بھی ایمان علی ہے

ہے فخرِ نبی نازشِ سلمان علی ہے

ہر دور میں ہر فتح کا اعلان علی ہے

ہاں حشر کی منزل کا بھی سامان علی ہے

 

تقسیم ہوئیں نعمتیں ساری اسی گھر سے

شرمندہ اجل تھی ابوطالب کے پسر سے

 

جو رشکِ ملائک ہے وہ انسان علی ہے

اللہ کی مشیت کا بھی ارمان علی ہے

قرآن کہے جس کو وہ میزان علی ہے

اس دل کی حسیں بستی کا سلطان علی ہے

 

کعبے کو شرف ان کی ولادت سے عطا ہے

وہ پھول ہے جو قلبِ محمد میں کھِلا ہے

 

جرار علی حیدرو صفدر بھی علی ہے

سجدے میں سخاوت کا سمندر بھی علی ہے

یہ شان ہے کہ نفسِ پیمبر بھی علی ہے

باہر بھی علی ہے مرے اندر بھی علی ہے

 

آغوشِ پیمبر میں پَلا ہے علی حیدر

اک نور کے پیکر میں ڈھلا ہے علی حیدر

 

ہر دور کے فرعون پہ مولا مرا غالب

ایمانِ علی مظہرِ شانِ ابوطالب

عاجز ہوئے اس در پہ معانی و مطالب

ہر ایک ولی ان کی محبت کا ہے طالب

 

یہ سلسلۂ عشقِ ولایت ہے علی سے

قرآں کہے قرآں کی حفاظت ہے علی سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ