اردوئے معلیٰ

یہ سچ ہے بندگی کی بھی فرصت نہ تھی مجھے

یہ سچ ہے بندگی کی بھی فرصت نہ تھی مجھے

دائم ترے کرم کی ضرورت رہی مجھے

 

ہر شے ہے، میرے رب!تری رحمت کے سائے میں

تو نے اسی لیے تو سزا بھی نہ دی مجھے

 

یارب! ترا ہی لطف و کرم چاہیے فقط

دے اپنی بندگی کی نئی روشنی مجھے

 

قرآں کے لفظ لفظ میں دیکھا کروں تجھے

دیدے خیال و فکر کی پاکیزگی مجھے

 

دیدارِ دائمی کی عطا کر سہولتیں

محسوس ہو نہ تا بہ ابد تشنگی مجھے

 

عاصی ہوں، اب گناہوں سے توبہ کی فکر ہے

حاصل ہو قول و فعل کی تابندگی مجھے

 

پاؤں نجات میں بھی، شفاعت کے واسطے

پہچان لے جو حشر میں تیرا نبی مجھے

 

نازاں ہوں میں عزیزؔ بصد لطف، رب نے بھی

توفیقِ خاص عرضِ تمنا کی دی مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ