اردوئے معلیٰ

یہ ظرف ہے عذاب مرے واسطے کہ میں

کم بخت اپنے حال پہ رو بھی نہیں سکوں

 

ائے راہگزارِ شوق یہ کیسا مقام ہے

کھونا پڑا ہے وہ جسے کھو بھی نہیں سکوں

 

میری انا کےچاند سے اجلے وجود پر

وہ داغ لگ چکا ہے کہ دھو بھی نہیں سکوں

 

تعبیر جاننے کا نتیجہ ہے یہ کہ اب

خوابوں کا خوف وہ ہے کہ سو بھی نہیں سکوں

 

لگتا ہے ہر مقام پہ جیسے کہ تو گیا

اور میں کہ ہر مقام پہ ہو بھی نہیں سکوں

 

دامانِ چاک چاک ہے میرا یہ میری جاں

کچھ خط نہیں ترا کہ بھگو بھی نہیں سکوں

 

تو نے دیا جو درد تو دل کھول کے دیا

میں جس کو بازوؤں میں سمو بھی نہیں سکوں

 

اس چشمِ خواب ناک میں گہرائیاں تو ہوں

لٹیا نہیں ہے دل کہ ڈبو بھی نہیں سکوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات